جائیں گے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۱)عورت گھر اور گھوڑے کو منحوس جاننا
بعض لوگ عورت ،گھر اور گھوڑے کو منحوس سمجھتے ہیں اور دلیل کے طور پر یہ حدیثِ پاک پیش کرتے ہیں کہ رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر،محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اِرشادفرمایا: نُحوست عورت میں ، گھر میں اور گھوڑے میں ہے۔
(بخاری،کتاب النکاح،باب ما یتقی من شؤم المراۃ ۳/۴۳۰، حدیث:۵۰۹۳)
اگراس حدیث پاک کی تشریح پڑھ اور سمجھ لی جائے تو امید ہے کہ ایسے لوگ اپنے مؤقف سے رجوع کرلیں گے ، چنانچہ مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : اس حدیث کے بہت معنی کئے گئے ایک یہ کہ اگر کسی چیز سے نُحوست ہوتی تو ان تین میں ہوتی، دوسرے یہ کہ عورت کی نُحوست یہ ہے کہ اولاد نہ جَنے اور خاوند کی نافرمان ہو، مکان کی نُحوست یہ ہے کہ تنگ ہو وہاں اذان کی آواز نہ آئے اور اس کے پڑوسی خراب ہوں ، گھوڑے کی نُحوست یہ ہے کہ مالک کو سواری نہ دے، سَرکش ہو، بہرحال یہاں شؤم سے مراد بَدفال(یعنی بَدشگونی) نہیں کہ اس کی وجہ سے رِزْق گھٹ جائے یا آدمی مرجائے کہ اسلام میں بَدفالی ممنوع ہے۔ لہٰذا یہ حدیث لَاطِیَرَۃَ کی حدیث کے خلاف نہیں۔ خیال رہے کہ بعض بندے اور بعض چیزیں مبارک تو ہوتی ہیں کہ ان سے