ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہکے غم میں واقع ہوا ہے،چنانچہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لوگوں کوسورج گہن کی نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیتے ہوئے اِرشادفرمایا: سورج اور چانداللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، انہیں گرہن کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔ پس جب تم اسے دیکھو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پکارو، اس کی بڑائی بیان کرو ، نمازپڑھو اور صدقہ دو۔(بخاری،کتاب الکسوف،باب الصدقۃ فی الکسوف ۱/۳۵۷،۳۶۳ ،حدیث :۱۰۴۴،۱۰۶۰،ملخصاً)
مَدَنی پھول :سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور چاند گہن کی مستحب۔ سورج گہن کی نماز جماعت سے پڑھنی مُسْتَحَبہے اور تنہا تنہا بھی ہو سکتی ہے اور جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا تمام شرائط جمعہ اس کے لیے شرط ہیں ، وہی شخص اس کی جماعت قائم کر سکتا ہے جو جمعہ کی کر سکتا ہے، وہ نہ ہو تو تنہا تنہا پڑھیں ، گھر میں یا مسجد میں۔ (بہار شریعت،۱/۷۸۷)
ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟
جب سورج یا چاند کو گہن لگے تومسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس نظارے سے محظوظ ہونے( ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرہن کے وَقْت سورج کو براہ راست دیکھنے سے آنکھ کی بینائی بھی جاسکتی ہے) اور توہمات کا شکار ہونے کے بجائے بارگاہِ الٰہی میں حاضری دیں اور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طَلَب کریں ،اس یومِ قیامت کو یاد کریں جب سورج اور چاند بے نور ہوجائیں گے اور ستارے توڑدئیے جائیں گے اور پہاڑ لپیٹ دئیے