Brailvi Books

بدشگونی
80 - 127
الْاِعتقاد اَفراد خودکو کمروں  میں  بند کرلیتے ہیں  تاکہ بقول ان کے وہ گرہن کے وَقْت خارِج ہونے والی نقصان دہ لہروں  سے بچ سکیں ٭ بعض معاشروں  میں  جس دن گرہن لگتا ہے اکثر لوگ کھانا پکانے سے گُریز کرتے ہیں  کیونکہ ان کا خیال ہے کہ گرہن کے وَقْت خطرناک جراثیم پیدا ہوتے ہیں ٭ کئی مشرقی ملکوں  میں  عِلْم نجوم کے ماہرین سورج گرہن سے منسلک پیشن گوئیاں  کرتے ہیں  جن میں  کسی تباہی یا نقصان کی نشان دہی کی جاتی ہے،مثلاً چوری، اغوا، قتل وغارت، خودکشیاں  اور تشدد کے واقعات بالخصوص خواتین کی اموات میں  اضافہ، لاقانونیت اور بے انصافی کے واقعات کثرت سے ہونے کی پیشن گوئی کی جاتی ہے ۔ الغرض مشرق و مغرب،ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دنیا میں  ہر جگہ سورج اور چاند گرہن کے انسان پر مضر اثرات کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔
گرہن کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں  لگتا
	عرب معاشرے میں  بھی سورج اورچاند گرہن کے متعلق عام خیال تھا کہ یہ کسی بڑے واقعہ مثلاً کسی کی وفات یا پیدائش پر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ جب دنیا کے نقشے پر اسلام کی اِنقلابی دعوت اُبھری تواللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب،طبیبوں  کے طبیبصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ان توہمات کو خَتْم کیا۔جس دن آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہانتقال کر گئے اسی دن سورج میں گہن لگا۔ بعض لوگوں  نے خیال کیا کہ یہ حضرت