Brailvi Books

بدشگونی
78 - 127
مشرکانہ رسوم کے مشابہ بلکہ ان سے بھی بَدتر ہے کیونکہ ہندو بھی ایسا نہیں  کرتے اگر یہ عمل بَدفالی اور گمراہی کے خیال سے نہ ہو تب بھی بوجہِ اسراف مَعْیُوب ہے جبکہاللہ تعالٰی کا اِرشادہے : وَلَا تُسْرِفُوۡا ؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۙ (پ۸،انعام:۱۴۱) (ترجمۂ کنزالایمان :اور بے جا نہ خرچو بے شک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں۔) یہ اقدام متعدد وُجوہ کی بنا پر فائدے اور بھلائی سے خالی ہے اور تَبذِیر کے زُمرے میں  آتاہے جبکہاللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوٰنَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ(پ۱۵، بنی اسرائیل:۲۷)(ترجمۂ کنزالایمان:بیشک اڑانے والے شیطانوں  کے بھائی ہیں۔)اس وہم کی بنیاد شیطانی ہے مزید یہ کہ اس میں  بَدفالی وبَد شگونی والی گمراہی بھی شامل ہے۔ سیِّد عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اِرشادفرمایا بُری فال نکالنا اور اس پر کار بندہونا مشرکین کا طریقہ اور دستور ہے۔(فتاویٰ رضویہ،۲۳/۲۶۴ تا۲۶۶ملخصًا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۰) گرہن سے جڑے ہوئے توہمات 
	سورج اور چاند گرہن کے بارے میں  لوگ اِفراط و تفریط کاشکار نظر آتے ہیں  ۔ کہیں  تو سورج گرہن کا (مخصوص شیشوں  کے ذریعے)نظارہ کرنے کے لئے پارٹیاں  منعقد کی جاتی ہیں اور کہیں  گرہن کے بارے میں  مختلف تصورات وتوہُّمات پائے جاتے ہیں ،مثلاً:٭ گرہن اس وَقْت لگتا ہے جب سورج کو بلائیں  اور خوفناک جانور نگل لیتے ہیں ، ایک ویب سائٹ سے لی گئی معلومات کے مطابق جب بھی چاند کو