Brailvi Books

بدشگونی
77 - 127
تشریف لائے تو آپ (اپنی نواسی)امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ تعالٰی عنہاکو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے ۔پھر آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنماز پڑھانے لگے تو رکوع میں  جاتے وَقْت انہیں  اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں  اٹھا لیتے ۔
(بخاری ،کتاب الادب،باب رحمۃ الولد ،۴/۱۰۰،حدیث:۵۹۹۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۹)مکان میں  نئے بچے کی ولادت کو منحوس جاننا
	بعض لوگ رہنے کے پرانے مکان میں  نئے بچے کی ولادت کومنحوس جانتے ہیں  ،اسی طرح کا ایک سوال(فارسی زبان میں ) اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی خدمت میں  کیا گیا کہ علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس رسم کے بارے میں  کیا فرماتے ہیں  کہ بنگال میں  یہ رواج ہے کہ نومَولُود کی ولادت کے لئے اس کی ولادت سے قبل الگ کمرہ تعمیر کیا جاتاہے اور پہلے سے تعمیرشدہ مکان جہاں  وہ رہائش پذیرہوتے ہیں  اس میں  نئے بچے کی ولادت منحوس خیال کی جاتی ہے۔ کیا ان کا یہ اقدام  شَرْعاً جائز ہے یانہیں ؟ اور حضرتِ سیِّدُنا رسولُ اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے عہد مبارک میں  ایسے ہوتا تھا یا نہیں ؟ (ت) امامِ اہلسنّت ،اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے جواب دیا:یہ قبیح (یعنی بُری)رسم اس پاک زمانے میں  بالکل نہ تھی بلکہ اس کے بعد بھی عرصہ دراز تک بلکہ اب تک عام اسلامی ممالک میں  اس کا نام ونشان تک نہیں  پایا جاتا، یہ ہندوانہ اور