Brailvi Books

بدشگونی
76 - 127
اِرادہ سے اونٹ پر سوار ہوکر مکہ سے باہر نکلیں  تو کافروں  نے ان کا راستہ روک لیا ۔ ایک ظالم نے نیزہ مار کر ان کو اونٹ سے زمین پر گرا دیا جس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا ۔ نبی کریم رء وف و رحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اس واقعے سے بہت صدمہ ہوا چنانچہ آپ نے ان کے فضائل میں  ارشادفرمایا : ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّ یعنی یہ میری بیٹیوں  میں  اس اعتبار سے فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں  اتنی بڑی مصیبت اٹھائی ۔ جب آٹھ ہجری میں  حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا  کا انتقال ہوگیا تو نمازِ جنازہ پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں  سے قبر میں  اتارا ۔ (شرح العلامۃ الزرقانی ،باب فی ذکر اولادہ الکرام ،۴/۳۱۸،ماخوذاً)
	(۳) حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہرضی اللہ تعالٰی عنہا   فرماتی ہیں  کہ نجاشی بادشاہ نے رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں  کچھ زیورات بطورِ تحفہ بھیجے جن میں  ایک حبشی نگینے والی انگوٹھی بھی تھی ۔ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اس انگوٹھی کو چھڑی یا اَنگشتِ مبارکہ سے مَس کیا(یعنی چُھوا) اور اپنی نواسی اُمامہ کو بلایا جو شہزادیٔ رسول حضرتِ سَیِّدَتُنا زینبرضی اللہ تعالٰی عنہا   کی بیٹی تھیں  اور فرمایا : ’’اے چھوٹی بچی ! اسے تم پہن لو ۔‘‘( ابو داوٗد،کتاب الخاتم،باب ماجاء فی ذھب للنساء ،۴/۱۲۵،حدیث :۴۲۳۵)
	(۴) حضرتِ سیِّدُنا ابوقتا دہ رضی اللہ تعالٰی عنہ  روایت کرتے ہیں  کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے پاس