(۱) ’’ جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے گھر فرشتوں کو بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں : ’’اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو ۔‘‘ پھر فرشتے اس بچی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک ناتواں وکمزور جان ہے جو ایک ناتواں سے پیدا ہوئی ہے ، جو شخص اس ناتواں جان کی پرورش کی ذمہ داری لے گا تو قیامت تک مددِ خدا (عَزَّوَجَلَّ) اس کے شاملِ حال رہے گی ۔‘‘(مجمع الزوائد،کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء فی الاولاد،۸/۲۸۵،حدیث:۱۳۴۸۴)
(۲) ’’بیٹیوں کو بُرا مت کہو ،میں بھی بیٹیوں والا ہوں ۔بے شک بیٹیاں تو بہت محبت کرنے والیاں ، غمگسار اور بہت زیادہ مہربان ہوتی ہیں ۔‘‘(مسند الفردوس للدیلمی،۲/۴۱۵،حدیث:۷۵۵۶)
(۳) ’’ جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے اِیذاء نہ دے اور نہ ہی بُرا جانے اور نہ بیٹے کو بیٹی پر فضیلت دے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘(المستدرک للحاکم،کتاب البر والصلۃ ،۵/۲۴۸،حدیث:۷۴۲۸)
(۴) ’’جس کی تین بیٹیاں ہوں ،وہ ان کا خیال رکھے ،ان کو اچھی رہائش دے ،ان کی کفالت کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔‘‘عرض کی گئی : ’’اور دو ہوں تو؟‘‘ فرمایا :’’اور دوہوں تب بھی ۔‘‘ عرض کی گئی : ’’اگر ایک ہو تو ؟‘‘ فرمایا : ’’ اگر ایک ہو تو بھی ۔‘‘(المعجم الاوسط ،۴/۳۴۷،حدیث: ۶۱۹۹)