(۸) لڑکیوں کی مسلسل پیدائش کو منحوس سمجھنا
بیٹا پیدا ہویا بیٹی ،انسان کو اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہیے کہ بیٹا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت اوربیٹی رحمت ہے اور دونوں ہی ماں باپ کے پیار اور شفقت کے مستحق ہیں۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ عزیز واَقْرِبا کی طرف سے جس خوشی کا اِظہار لڑکے کی ولادت پر ہوتا ہے ،محلے بھر میں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں ،مبارک سلامت کا شور مچ جاتاہے لڑکی کی ولادت پر اس کا دسواں حصہ بھی نہیں ہوتا ۔ دنیاوی طور پر لڑکیوں سے والدین اور خاندان کو بظاہِر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ ان کی شادی کے کثیر اَخراجات کا بار باپ کے کندھوں پر آن پڑتا ہے شاید اسی لئے بعض نادان بیٹیوں کی ولادت ہونے پر ناک چڑھاتے (یعنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے)ہیں اور بچی کی امی کو طرح طرح کے طعنے دئیے جاتے ہیں ، طلاق کی دھمکیاں دی جاتی ہیں بلکہ اوپر تلے بیٹیاں ہونے کی صورت میں اس دھمکی کو عملی تعبیر بھی دے دی جاتی ہے۔ اس پر یہ ظُلْم بھی ہوتا ہے کہ بیٹیوں کو ہی منحوس قرار دے دیا جاتا ہے ، اس وہم کی بھی شَرْعاً کوئی حیثیت نہیں ، اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، مجدِّدِ دین وملّت،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سُوال ہوا :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے تیسری لڑکی ہوئی ،اس دن سے زید نہایت پریشان ہے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ تیسری لڑکی اچھی نہیں ہوتی تیسرا لڑکا نصیب ور اور اچھا ہوتا ہے۔ زید نے ایک صاحب سے دریافت کیا انہوں نے فرمایا یہ سب باتیں اہلِ ہنود اور عورتوں کی بنائی