دعویداروں کے ہاں جا کر قسمت کاحال معلوم کرتے ہیں ،اپنا ہاتھ دکھاتے ہیں ، فالنامے نکلواتے ہیں ،پھر اس کے مطابق آیندہ زندگی کا لائحہ عمل بناتے ہیں ۔اس طرزِ عمل میں نقصان ہی نقصان ہے چنانچہ امامِ اہلسنّت مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :کاہِنوں اور جَوتِشیوں سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا بُرا دریافت کرنا اگر بطورِ اِعتقاد ہو یعنی جو یہ بتائیں حق ہے تو کفرِخالص ہے ،اسی کو حدیث میں فرمایا: فَقَدْ کَفَرَ بِمَانُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّد یعنی اس نے محمدصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم پر نازل ہونے والی شے کا انکار کیا۱؎ اور اگر بطورِ اِعتِقاد وتَیَقُّن (یعنی یقین رکھنے کے)نہ ہو مگر مَیل ورَغبت کے ساتھ ہو تو گناہِ کبیرہ ہے ،اسی کو حدیث میں فرمایا : لَمْ یَقْبَلِ اﷲُ لَہُ صَلٰوۃَ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ فرمائیگا،اور اگر بطور ہَزْل واِستہزاء (یعنی ہنسی مذاق کے طور پر)ہو توعَبَث(یعنی بے کار) ومکروہ وحماقت ہے ، ہاں ! اگر بقصدِتَعْجِیْز(یعنی اسے عاجز کرنے کے لئے )ہو تو حَرَج نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/۱۵۵)
کاہنوں کی بعض باتیں دُ رُست ہونے کی وجہ
حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کاہنوں (یعنی ان کی باتیں قابل اِعتماد ہونے یا نہ ہونے )کے بارے میں پوچھا تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱ :ترمذی،کتاب الطہارۃ،باب ما جاء فی کراہیۃ اتیان الحائض، ۱/۱۸۵،حدیث:۱۳۵