بَدشگونی کی تَردِید
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 590 صفحات پر مشتمل کتاب ’’حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز کی 425حکایات ‘‘کے صفحہ90 پر ہے: امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللہِ الْعَزِیز کے غلام مُزاحِم کا بیان ہے :جب ہم مدینۂ طیِّبہ زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً سے نکلے تو میں نے دیکھا کہ چاند ’’دَبَران‘‘ میں ہے، میں نے ان سے یہ کہنا تو مناسب نہ سمجھا بلکہ یہ کہا: ذرا چاند کی طرف نظرفرمایئے، کتنا خوبصورت نظر آتاہے! آپ رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے دیکھا تو چاند دَبَران ۱؎ میں تھا، فرمایا: شاید تم مجھے یہ بتانا چاہتے ہو کہ چاند دَبَران میں ہے، مُزاحِم!ہم چاند سورج کے ساتھ نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ واحد وقہّار کے حُکم و مَشَیِّت کے ساتھ نکلتے ہیں۔(سیرت ابن عبدالحکم ،ص۲۷) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶) نُجومی کو ہاتھ دکھانا
بہت سے لوگ کاہنوں ، نُجومیوں ، پروفیسروں اور رَمل و جَفَر کے جھوٹے
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱ :دَبَران چاند کی ایک منزل کانام ہے،اس وَقْت چاند ثریا اور جوزا کے درمیان ہوتا ہے ۔عرب میں نُجومیوں کا یہ وہم رائج تھا کہ یہ ساعت منحوس ہوتی ہے ،مزاحم کا اشارہ غالباًاسی طرف تھا۔