Brailvi Books

بدشگونی
67 - 127
نُجومیوں  کے ڈھکوسلے 
	صَدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہِ القویاِرشادفرماتے ہیں :قمردَرعَقْرَب یعنی چاند جب بُرجِ عقرب  ۱؎  میں  ہوتا ہے تو سفر کرنے کو بُراجانتے ہیں  اور نُجومی اسے منحوس بتاتے ہیں  اور جب برجِ اسد میں  ہوتا ہے تو کپڑے قَطع کرانے(یعنی کٹوانے) اور سلوانے کو بُراجانتے ہیں۔ ایسی باتوں  کو ہرگز نہ مانا جائے، یہ باتیں  خلافِ شرع اور نُجومیوں  کے ڈھکوسلے ہیں۔نجوم کی اس قسم کی باتیں  جن میں  ستاروں  کی تاثیرات بتائی جاتی ہیں  کہ فلاں  ستارہ طلوع کرے گا تو فلاں  بات ہوگی، یہ بھی خلافِ شَرع ہے۔ اس طرح نِچَھتَّروں  کا حساب کہ فلاں  نِچَھتَّر(یعنی ستاروں  کی منزل) سے بارش ہوگی یہ بھی غَلَط ہے، حدیث میں  اس پر سختی سے انکار فرمایا۔ (بہار شریعت، ۳/۶۵۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱ ؎  :صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی تَبٰرَکَ الَّذِیۡ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا(پ۱۹،الفرقان،آیت:۶۱)ترجمہ کنزالایمان:بڑی بَرَکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے۔)کے تحت تفسیر خزائن العرفان صفحہ 678 پر لکھتے ہیں :حضرت ابنِ عباسرضی اللہ تعالٰی عنہمانے فرمایا کہ بروج سے کواکبِ سبعہ سیّارہ کے منازل مراد ہیں جن کی تعداد بارہ ہے (ا)حَمَل (۲)ثَور (۳)جَوزا (۴)سَرطان (۵)اَسَد (۶)سُنبُلہ (۷)مِیزان (۸)عَقْرَب (۹)قَوس (۰ا)جَدِی (۱۱)دَلْو (۱۲)حُوت ۔