Brailvi Books

بدشگونی
66 - 127
تعالٰی علیہ نے دیکھ کر فرمایا :اللہ تعالیٰ کو سب قدر ت ہے چاہے تو آج بارش ہو ۔اُنہوں  نے کہا :یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟آپ ستاروں  کی وَضع کو نہیں  دیکھتے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے فرمایا:میں  سب دیکھ رہا ہوں  اور اس کے ساتھ ساتھ ستاروں  کے واضع (بنانے والے )اور اُس کی قدرت کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ پھر اس مشکل مسئلے کو اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے آسان طریقے پر سمجھا دیا۔ وہ اس طرح کہ سامنے گھڑی لگی ہوئی تھی ،اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے اُن سے پوچھا: وَقْت کیاہواہے ؟ بولے: سواگیارہ بجے ہیں۔ اعلیٰ حضرت  رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے فرمایا :بارہ بجنے میں  کتنی دیر ہے؟ شاہ صاحب بولے:’’ٹھیک پون گھنٹہ(یعنی 45منٹ)۔‘‘ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ اُٹھے اور بڑی سوئی کو گھما دیا فوراً ٹن ٹن بارہ بجنے لگے۔ اب اعلیٰ حضرت نے فرمایا: آپ نے تو کہا تھا ٹھیک پون گھنٹہ ہے بارہ بجنے میں  ۔شاہ صاحب بولے: آپ نے اسکی سوئی کھسکا دی ورنہ اپنی رفتا ر سے پون گھنٹے ہی کے بعد بارہ بجتے ۔اعلیٰ حضرت  رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے فرمایا : اِسی طرح اللہ ربُّ العزت قادر ِ مُطْلَق ہے کہ جس ستارے کو جس وَقْت جہاں  چاہے پہنچا دے، وہ چاہے تو ایک مہینہ کیا، ایک ہفتہ کیا، ایک دن کیا، ابھی بارش ہونے لگے۔ اتنا زبان مبارک سے نکلنا تھا کہ چاروں  طرف سے گھنگھور (گہری)گھٹا آگئی اور پانی برسنے لگا ۔   (تجلیات ِ امام احمد رضا ، ص۱۱۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد