شارحِ بُخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃُ اللہِ القویاس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :اگر یہ اِعتقاد ہو کہ ستارے ہی بارش برساتے ہیں تو یہ اِعتقاد کُفْر ہے اور اگر یہ اِعتقاد ہو کہ بارش بِاِذنِ اِلٰہی (یعنی اللہ تعالیٰ کی اِجازت سے)برستی ہے مختلف ستاروں کا طلوع وغروب اس کی علامت ہے تو اس میں کوئی حَرَج نہیں۔اس لئے یہ کہنا کہ فلاں نِچَھتَّرکی وجہ سے بارش ہوئی ممنوع ہے اور یہ کہنا کہ فلاں نِچَھتَّر(ستاروں کی منزل)میں بارش ہوئی جائز ہے ۔ (کَافِرٌ بِیْ مُؤْمِنٌ بِالْکَواکِب کی تشریح میں مفتی صاحب لکھتے ہیں :)یہاں کُفْر اور ایمان کے لُغوی معنی مراد ہیں یعنی میرا مُنکِر (یعنی انکار کرنے والا)اور نِچَھتَّر(یعنی ستاروں کی منزلوں ) کا ماننے والا ہے ۔
(نزھۃ القاری، ۲/۴۹۵،۴۹۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جس ستارے کو جہاں چاہے پہنچا دے
ایک دن مولانا محمد حسین میرٹھی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی کے والد صاحب(جو علمِ نجوم میں بڑی مہارت رکھتے تھے ) اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے پاس آئے توآپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے اُن سے دریافت فرمایا: فرمائیے !بارش کا کیا اندازہ ہے کب تک ہوگی ؟ انہوں نے ستاروں کی وضع سے زائچہ بنایا اوربتایا: اِس مہینہ میں پانی نہیں ہے آئند ہ ماہ میں ہوگا۔ یہ کہہ کر و ہ زائچہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کی طرف بڑھا دیا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ