Brailvi Books

بدشگونی
64 - 127
کنزالایمان:تو ایسوں  کی برائیوں  کو اللہ بھلائیوں  سے بدل دے گا ۔)بلکہ کبھی گناہ یوں  سعادت ہوجاتا ہے کہ بندہ اس پر خائف وترساں  وتائب وکوشاں  رہتاہے، وہ دُھل گیا اور بہت سی حَسَنات(یعنی نیکیاں ) مل گئیں ، باقی کواکب میں  کوئی سعادت ونُحوست نہیں  اگر ان کو خود مُؤَثِّر (یعنی اثر کرنے والا)جانے شِرْک ہے اور ان سے مدد مانگے تو حرام ہے، ورنہ ان کی رعایت ضَرورخلافِ توکُّل ہے۔       (فتاویٰ رضویہ، ۲۱/۲۲۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کچھ مؤمن رہے کچھ کافر ہوگئے 
	حضرتِ سیِّدُنا زید بن خالد جُہنی رَضِیَ اللہُ عَنْہُبیان کرتے ہیں :رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ہمیں  حُدیبیہ کے مقام پر بارش کے بعد صبح کی نماز پڑھائی،جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تولوگوں  کی جانب رُخ انور کیا اور اِرشاد فرمایا:کیا تم جانتے ہو تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے کیا فرمایا؟لوگوں  نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں  ۔اِرشادفرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا ہے کہ میرے بندوں  نے صبح کی تو کچھ مومن ہوئے اور کچھ کافر،جس نے کہا :ہم پراللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا ہے اور ستاروں  کا انکار کرنے والا ہے اور جن لوگوں  نے کہا :ہم پرفلاں  فلاں  ستارے کے سبب بارش ہوئی ،کَافِرٌ بِیْ مُؤْمِنٌ بِالْکَواکِب یعنی وہ میرے منکراور ستاروں  کے ماننے والے ہوئے۔(بخاری،کتاب الاذان،باب یستقبل الامام الناس اذا سلم ۱/۲۹۵ ،حدیث:۸۴۶)