Brailvi Books

بدشگونی
63 - 127
(۵)ستاروں  کے اچھے بُرے اثرات پر یقین رکھنا کیسا ؟
	خود کو پڑھا لکھا سمجھنے والوں  کی بہت بڑی تعداد ستاروں  کے اثرات کی اس قدر قائل ہوتی ہے کہ شادی اور کاروبارجیسے اہم فیصلے بھی ستاروں  کی نَقْل وحرکت کے مطابق کرتی ہے ، ایسے لوگ ستارہ شناسی کا دعویٰ کرنے والوں  کا آسان شکار ہوتے ہیں  جو ان کو بے وقوف بنا کر بڑی بڑی رقمیں  بٹورتے رہتے ہیں  ۔بارہا ایسا ہوتا ہے کہ لڑکا لڑکی کا رشتہ طے ہوچکا ہوتا ہے ، ضَروری چھان بین بھی ہوچکی ہوتی ہے لیکن  ایک فریق یہ کہہ کررشتے سے انکار کردیتا ہے کہ ہم نے پتا کروایا ہے کہ لڑکے اور لڑکی کا ستارہ آپس میں  نہیں  ملتالہٰذا یہ شادی نہیں  ہوسکتی ۔ میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سُوال کیا گیا کہ کواکبِ فلکی (یعنی آسمانی ستاروں )کے اثراتِ سعد و نَحْس (یعنی اچھے اور منحوس اثرات)پر عقیدت(یعنی بھروسا) رکھنا کیساہے؟ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ   نے جواب دیا :مسلمان مُطِیع (یعنی اطاعت گزار مسلمان)پر کوئی چیز نَحْس(یعنی منحوس) نہیں  اور کافروں  کے لئے کچھ سَعد(یعنی اچھا)نہیں ، اور مسلمان عاصی(یعنی نافرمانی کرنے والے مسلمان) کے لئے اس کا اسلام سَعد (یعنی نیک بختی)ہے۔ طاعت(یعنی عبادت) بشرطِ قبول سعد(یعنی نیک بختی) ہے۔ مَعْصِیت (یعنی گناہ گاری)بجائے خود نَحْس(یعنی منحوس)ہے اگر رحمت و شفاعت اس کی نُحوست سے بچالیں  بلکہ نُحوست کو سعادت کردیں،فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍؕ(پ۱۹،الفرقان:۷۰)(ترجمۂ