Brailvi Books

بدشگونی
62 - 127
کہ ان دنوں  میں  جو شادیاں  ہوتی ہیں  ان سے میاں  بیوی کے تعلقات اچھے نہیں  بنتے اور ان میں وہ اُلفت ومحبت پیدا نہیں  ہوپاتی جو خوشگوار گھریلو زندگی کے لئے ضَروری ہے۔بعض علاقوں  میں  شوال المکرم کو بھی انہی مہینوں  میں  سے شمار کیا جاتا ہے ۔ اہلِ عرب شوال کے مہینہ میں  نکاح یا رُخصتی منحوس جانتے تھے اور کہتے تھے کہ اس مہینہ کا نکاح کامیاب نہیں  ہوتا میاں  بیوی کے دل نہیں  ملتے۔(مرقاۃالمفاتیح ،۶/۳۰۲) اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کسی زمانے میں  شوال کے مہینے میں  طاعون واقع ہوا جس میں  بہت سی دلہنیں  ہلاک ہوگئیں ،اس کے سبب لوگ شوال میں  شادی کو منحوس سمجھنے لگے جبکہ شریعت مطہرہ نے اس تصوُّر کو غَلَط قرار دیا ہے۔ام المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں :سرکارِ مدینہ،راحتِ قلب و سینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ سے نکاح بھی شوال میں  کیااور زِفاف بھی، تو آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ محبوب تھی !(مسلم،کتاب النکاح ،۷۳۹،حدیث: ۱۴۲۳) مراٰۃالمناجیح میں  ہے: مقصد یہ ہے کہ میرا تو نکاح بھی ماہ شوال میں  ہوا اور رخصتی بھی اور میں  تمام ازواج مطہرات (رضی اللہ تعالٰی عنہن)میں  حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کو زیادہ محبوبہ تھی اگر یہ نکاح اور رخصت مبارک نہ ہوتی تو میں  اتنی مقبول کیوں  ہوتی!علماء فرماتے ہیں  کہ ماہ شوال میں  نکاح مستحب ہے۔ (مراۃ المناجیح ۵/ ۳۲،۳۳)
مخصوص تاریخوں  میں  شادی نہ کرنے کے بارے میں  سُوال جواب
	 میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے سُوال ہوا:اکثر لوگ 3،13یا 23، 8، 18، 28وغیرہ تواریخ اور پنجشنبہ و یکشنبہ و چہارشنبہ(یعنی جمعرات، اتواراور بدھ) وغیرہ ایام کو شادی وغیرہ نہیں  کرتے۔ اِعتقاد یہ ہے کہ سَخْت نقصان پہنچے گا ان کا کیا حکم (ہے)؟ اعلیٰ حضرت  رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے جوابدیا : یہ سب باطِل و بے اصل ہے۔ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ  		(فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۲۷۲)