مشرکینِ ہند کا ناپاک عقیدہ ہے ۔حدیث ۱؎ میں تو یہ اِرشادفرمایا:لَعَطْسَۃٌ وَاحِدَۃٌ عِنْدَ حَدِیْثٍ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ شَاھِدٍ عَدْلٍبا ت کے وَقْت چھینک عادل گواہ ۲؎ہے۔۳؎ یعنی جو کچھ بیان کیا جاتا ہو جس کا صِدْق وکِذْب (یعنی سچا اور جھوٹا ہونا )معلوم نہیں اور اس وَقْت کسی کو چھینک آئے تو وہ اس بات کے صدق(یعنی سچا ہونے) پر دلیل ہے۔۴؎ اور یہ بھی آیا ہے کہ دُعا کے وَقْت چھینک آنا دلیلِ قبول ہے۔۵؎ غرض چھینک محبوب چیز ہے مگر وہ کہ نماز میں آئے حدیث میں اسے شیطان کی طرف سے شمار فرمایا ہے ۔۶؎ (ملفوظات،ص۳۱۹،۳۲۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴) شوال میں شادی نہ کرنا
شریعت نے کسی مہینے یا موسم میں نکاح کرنے سے منع نہیں کیا لیکن کچھ نادان مخصوص مہینوں یا دنوں میں شادی کرنے کو منحوس سمجھتے ہیں ، ان کو یہ وہم ہوتا ہے
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱ :یہ حضرت عمر فاروقرضی اللّٰہ تعالٰی عنہکا قول ہے۲ :علامہ عبدالمصطَفٰے اعظمیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی لکھتے ہیں :اب غور کرو کہ جب چھینک کورسولُ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ’’شاہد عدل(یعنی عادل گواہ)‘‘کا لقب دیا تو پھر بھلا چھینک منحوس اور بَدشگونی کا سامان کیسے بن سکتی ہے؟ اس لئے لوگوں کو اس عقیدہ سے توبہ کرنی چاہئے کہ چھینک منحوس اور بَدفالی کی چیز ہے۔ خداوند کریم مسلمانوں کو اتباع سنت اور پابندی شریعت کی توفیق بخشے آمین۔ (جنتی زیور،۴۳۱)
۳ :نوادر الاصول، ۲/۷۷۴، حدیث:۱۰۶۴ ۴ :کنز العمال، ۹/۶۹، حدیث:۲۵۵۳۳ ۵ :المعجم الکبیر، ۲۲/۳۳۶، حدیث:۸۴۳
۶ : ترمذی، کتاب الادب، باب ما جاء ان العطاس…الخ،۴/۳۴۴، حدیث:۲۷۵۷