جاتی ہیں سب بے ثبوت ہیں۔(بہار شریعت ،۳/۶۵۹)
صفر کے مہینے میں پیش آنے والے چندتاریخی واقعات
٭صفر المظفر پہلی ہجری میں حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اورخاتونِ جنت حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکی شادی خانہ آبادی ہوئی۔(الکامل فی التاریخ ،۲/۱۲)٭صفر المظفر سات ہجری میں مسلمانوں کو فتحِ خیبر نصیب ہوئی۔(البدایۃ والنہایۃ،۳/۳۹۲) ٭سیفُ اللہحضرتِ سیِّدُنا خالد بن ولید،حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن عاص اور حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن طلحہ عبدری رضی اللہ تعالٰی عنہم نے صفر المظفرآٹھ ہجری میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکراسلام قبول کیا۔ (الکامل فی التاریخ،۲/۱۰۹)٭ مدائن (جس میں کسرٰی کا محل تھا ) کی فتح صفر المظفر سولہ ہجری ہی کے مہینے میں ہوئی۔ (الکامل فی التاریخ ،۲ /۳۵۷)
کیا اب بھی آپ صفر کو منحوس جانیں گے؟یقیناً نہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۳) چھینک سے بَدشگونی لینا
بعض لوگ چھینک کو بَدشگونی سمجھتے ہیں اگر کسی کام کے لئے جاتے وَقْت خود کو یا کسی اور کو چھینک آگئی تو لوگ یہ بَدفالی لیتے ہیں کہ یہ کام نہیں ہوگا، یہ بہت بڑی جہالت اور بے عقلی کی دلیل ہے۔ اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت مولاناشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰننے فرمایا:چھینک اچھی چیز ہے، اسے بَدشگونی جاننا