الْمُظَفَّرکہا جاتا ہے یعنی کامیابی کا مہینہ،یہ کیونکر منحوس ہوسکتا ہے؟ اب اگر کوئی شخص اس مہینہ میں احکامِ شرع کا پابند رہا ،نیکیاں کرتا اور گناہوں سے بچتا رہا تو یہ مہینہ یقینا اس کے لئے مبارک ہے اور اگر کسی بَدکردار نے یہ مہینہ بھی گناہوں میں گزارا، جائز ناجائز اور حرام حلال کا خیال نہ رکھا تو اس کی بربادی کے لئے گناہوں کی نُحوست ہی کافی ہے ۔اب ماہِ صفر ہویا کسی بھی مہینے کا سیکنڈ ، منٹ یا گھنٹہ! اگر اُسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ اس کی شامتِ اعمال کا نتیجہ ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲) صفر المظفر کا آخری بدھ منانا
صَدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہِ القویلکھتے ہیں :ماہ صفر کا آخر چہار شنبہ(بُدھ) ہندوستان میں بہت منایا جاتا ہے، لوگ اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں ، سیر و تفریح و شکار کو جاتے ہیں ، پُوریاں پکتی ہیں اور نہاتے دھوتے خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ حضورِ اقدسصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس روز غسلِ صحت فرمایا تھا اور بیرونِ مدینہ طیبہ سیر کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بے اصل ہیں بلکہ ان دنوں میں حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مرض شدت کے ساتھ تھا، وہ باتیں خلافِ واقع ہیں۔اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس روز بلائیں آتی ہیں اور طرح طرح کی باتیں بیان کی