Brailvi Books

بدشگونی
58 - 127
کوئی دن منحوس نہیں  ہوتا
	علامہ سید محمد امین بن عمر بن عبد العزیز شامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی لکھتے ہیں  :علامہ حامد آفندی علیہ رحمۃُ اللہِ القویسے سُوال کیا گیا: کیابعض دن منحوس یا مبارک ہوتے ہیں  جوسفر اور دیگر کام کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ تو انہوں  نے جواب دیا کہ جو شخص یہ سُوال کرے کہ کیا بعض دن منحوس ہوتے ہیں  اس کے جواب سے اِعراض کیا جائے اور اس کے فعل کو جہالت کہا جائے اور اس کی مذمت بیان کی جائے ، ایسا سمجھنا یہود کا طریقہ ہے ، مسلمانوں کا شیوہ نہیں  ہے جو اللہ تعالی پر توکُّل کرتے ہیں۔(تنقیح الفتاوی الحامدیہ، ۲/ ۳۶۷)  
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کوئی وَقْت بَرَکت والا اور عظمت و فضیلت والا تو ہوسکتا ہے جیسے ماہِ رمضان، ربیع الاول،جمعۃ المبارک وغیرہ مگر کوئی مہینہ یا دن منحوس نہیں  ہوسکتا ۔مراٰۃُ المناجیح میں  ہے: اسلام میں  کوئی دن یا کوئی ساعت منحوس نہیں  ہاں  بعض دن بابرکت ہیں۔(مراٰۃ المناجیح ،۵/۴۸۴)تفسیر رُوح البیان میں  ہے :صفر وغیرہ کسی مہینے یا مخصوص وَقْت کو منحوس سمجھنا دُرُست نہیں ، تمام اوقات اللہ عَزَّوَجَلَّکے بنائے ہوئے ہیں  اور ان میں  انسانوں  کے اعمال واقع ہوتے ہیں۔جس وَقْت میں  بندۂ مومن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت وبندگی میں  مشغول ہو وہ وَقْت مبارک ہے اور جس وَقْت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرے وہ وَقْت اس کے لئے منحوس ہے۔ درحقیقت اصل نُحوست تو گناہوں  میں  ہے۔(تفسیر روح البیان،۳/۴۲۸)
	ماہِ صفربھی دیگر مہینوں  کی طرح ایک مہینہ ہے جس طرح دوسرے مہینوں  میںرب عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم کی بارشیں  ہوتی ہیں  اس میں  بھی ہوسکتی ہیں  ، اسے تو صَفَرُ