صفر کچھ نہیں
ہمارے مَدَنی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صفر المظفر کے بارے میں وہمی خیالات کو باطِل قرار دیتے ہوئے فر مایا:’’ لَاصَفَرَ‘‘ صفر کچھ نہیں ۔ (بخاری ، کتاب الطب ، باب الجذام ۴/ ۲۴، حدیث : ۵۷۰۷)محقق علی الاطلاق حضرت علامہ مولانا شاہ عبد الحق محدث ِدہلوی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : عوام اسے (یعنی صفر کے مہینے کو) بلاؤں ،حادثوں اور آفتوں کے نازل ہونے کا وَقْت قرار دیتے ہیں ،یہ عقیدہ باطِل ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔(اشعۃ اللمعات (فارسی)،۳/۶۶۴)
صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہِ القویلکھتے ہیں :ماہِ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں اس میں شادی بیاہ نہیں کرتے لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے اور بھی اس قسم کے کام کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں ، خصوصاً ماہِ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں بہت زیادہ نحس (یعنی نُحوست والی)مانی جاتی ہیں اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔حدیث میں فرمایاکہ ’’صفر کوئی چیز نہیں ‘‘یعنی لوگوں کا اسے منحوس سمجھنا غَلَط ہے۔ اسی طرح ذیقعدہ کے مہینہ کو بھی بہت لوگ بُراجانتے ہیں اور اس کو خالی کا مہینہ کہتے ہیں یہ بھی غَلَط ہے اور ہر ماہ میں 3 ،13،23 ،8 ،18 ،28(تاریخ)کو منحوس جانتے ہیں یہ بھی لَغْو(یعنی بے کار)بات ہے۔(بہار شریعت ،۳/۶۵۹)