Brailvi Books

بدشگونی
56 - 127
رزقِ حلال پر ہر ماہ کی ہر تاریخ کو دی جا سکتی ہے لیکن یہ سمجھنا کہ اگر تیرہ تیزی کی فاتحہ نہ دی اور سفید چنے پکا کر تقسیم نہ کئے تو گھر کے کمانے والے افراد کا روزگار متاثر ہوگا ، یہ بے بنیاد خیالات ہیں  ۔
عربوں میں  ماہِ صفر کو منحوس سمجھا جاتا تھا 
	دورِ جاہلیت (یعنی اسلام سے پہلے )میں بھی ماہِ صفر کے بارے میں  لوگ اسی قسم کے وہمی خیالات رکھا کرتے تھے کہ اس مہینے میں  مصیبتیں  اور آفتیں  بہت ہوتی ہیں ،چنانچہ وہ لوگ ماہِ صفر کے آنے کو منحوس خیال کیا کرتے تھے۔ (عمدۃ القاری،۷/۱۱۰مفہوماً)
	 عرب لوگ حُرمت کی وجہ سے چار ماہ، رجب، ذُوالقعدۃ، ذُوالحجہ اور مُحرَّم میں جنگ و جَدَل اور لُوٹ مار سے باز رہتے اور انتظار کرتے کہ یہ پابندیاں  خَتْم ہوں  تو وہ نکلیں  اور لوٹ مار کریں  لہٰذا صفر شروع ہوتے ہی وہ لوٹ مار، رہزنی اورجنگ و جدل کے ارادے سے جب گھروں  سے نکلتے تو انکے گھر خالی رہ جاتے،اسی وجہ سے کہا جاتا ہے:’’صَفَر الْمَکَان(مکان خالی ہو گیا)‘‘۔ جب عربوں  نے دیکھا کہ اس مہینے میں  لوگ قتل ہوتے ہیں  اورگھربرباد یا خالی ہو جاتے ہیں  تو انہوں نے اس سے یہ شگون لیا کہ یہ مہینہ ہمارے لئے منحوس ہے اورگھر وں  کی برباد ی اور ویرانی کی اصل وجہ پر غور نہیں  کیا ، نہ اپنے عمل کی خرابی کا احساس کیا اور نہ ہی لڑائی جھگڑے اورجنگ و جدال سے خود کو باز رکھا بلکہ اس مہینے کو ہی منحوس ٹھہرا د یا ۔