Brailvi Books

بدشگونی
55 - 127
اَفسوس ناک صورت حال 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح اَہلِ مِصر میں  دریائے نیل کو جاری رکھنے کے لئے غَلَط اِعتقاد پر مبنی رسمِ بَد جاری تھی اِسی طرح دورِ حاضِر میں  بھی بہت سے غَلَط سَلط اِعتقادات،توھُّمات اور ناجائز رُسومات زور پکڑتی جا رہی ہیں  جن کا تعلق بَدشگونی سے بھی ہوتا ہے،ان میں  سے چندچیزوں  کی نشاندہی کی کوشش کرتا ہوں  :
(۱)ماہِ صفر کو منحوس جاننا
	 نُحوست کے وہمی تصورات کے شکارلوگ ماہِ صفرکو مصیبتوں  اور آفتوں  کے اُترنے کا مہینہ سمجھتے ہیں خصوصا اس کی ابتدائی تیرہ تاریخیں  جنہیں  ’’تیرہ تیزی‘‘ کہا جاتا ہے بہت منحوس تصوُّر کی جاتی ہیں  ۔ وہمی لوگوں  کا  یہ ذہن بنا ہوتا ہے کہ صفر کے مہینے میں  نیا کاروبار شروع نہیں  کرناچا ہئے نقصان کا خطرہ ہے ،سفرکرنے سے بچنا چاہئے ایکسیڈنٹ کا اندیشہ ہے ،شادیاں  نہ کریں  ، بچیوں  کی رخصتی نہ کریں  گھر برباد ہونے کا امکان ہے،ایسے لوگ بڑا کاروباری لین دین نہیں  کرتے ،گھر سے باہر آمد و رفت میں  کمی کردیتے ہیں  ، اس گمان کے ساتھ کہ آفات ناز ل ہورہی ہیں  اپنے گھر کے ایک ایک برتن کو اور سامان کو خوب جھاڑتے ہیں  ،اسی طرح اگر کسی کے گھر میں  اس ماہ میں  میت ہو جائے تواسے منحوس سمجھتے ہیں  اور اگر اس گھرانے میں  اپنے لڑکے یا لڑکی کی نسبت طے ہوئی ہو تو اس کو توڑ دیتے ہیں۔ تیرہ تیزی کے عنوان سے سفید چنے (کابلی چنے)کی نیاز بھی دی جاتی ہے ۔ نیاز فاتحہ کرنا مُسْتَحَبوباعثِ ثواب ہے اور ہر طرح کے