کنواری لڑکی کو اس کے والدین سے لے کر عمدہ لباس اور نفیس زیور سے سجاکر دریائے نیل میں ڈالتے ہیں۔ حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: اسلام میں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا اور اسلام پرانی واہیات رسموں کو مٹاتا ہے۔ چنانچہ وہ رسم موقوف رکھی(یعنی روک دی) گئی اور دریا کی روانی کم ہوتی گئی یہاں تک کہ لوگوں نے وہاں سے چلے جانے کا قصد(یعنی ارادہ) کیا، یہ دیکھ کر حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ نے امیرُالْمُؤمِنِین خلیفۂ ثانی حضرت سیِّدُنا عُمَر بن خَطّاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں تمام واقعہ لکھ بھیجا۔آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جواب میں تحریر فرمایا: تم نے ٹھیک کیا،بے شک اسلام ایسی رسموں کو مٹاتا ہے۔ میرے اس خط میں ایک رُقعہ ہے اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا۔ حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس جب امیرُالْمُؤمِنِینکا خط پہنچا اور انہوں نے وہ رُقعہ اس خط میں سے نکالا تو اس میں لکھاتھا:’’(اے دریائے نیل!) اگر تو خود جاری ہے تو نہ جاری ہو اور اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے تو میں واحِدوقَہَّارعَزَّوَجَلَّ سے عرض کرتاہوں کہ تجھے جاری فرمادے۔‘‘ حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہنے یہ رُقعہ دریائے نیل میں ڈالاتو ایک رات میں 16 گز پانی بڑھ گیااور یہ رسم مصر سے بالکل موقوف (یعنی ختم)ہوگئی۔ (العظمۃ لابی الشیخ الاصبھانی،باب صفۃ النیل ومنتھاہ، ص۳۱۸ حدیث۹۴۰ملخصاً وموضحاً )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد