دوائی کھلاتے ہیں ، اب بچہ اپنی نادانی کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ میرے ماں باپ نے مجھ پر ظُلْم کیا ،میں جو چیز مانگ رہا تھا وہ مجھے نہیں دی اور اس کے بدلے میں مجھے کڑوی کڑوی دوا کھلا رہے ہیں ، اب وہ بچہ اس دوا کو اپنے حق میں خیر نہیں سمجھ رہا ہے لیکن بڑا ہونے کے بعد جب اسے عَقْل وشعور کی نعمت ملے گی تو اس کو سمجھ آئے گی کہ میں تو اپنے لیے موت مانگ رہا تھا اور میرے ماں باپ میرے لیے زندگی اور صحت کا راستہ تلاش کررہے تھے ۔ہمارا رب عَزَّوَجَلَّ تو اپنے بندوں پر ماں باپ سے کہیں زیادہ مہربان ہے ، اس لئےاللہ عَزَّوَجَلَّ ایک مسلمان کو وہی شے عطا فرماتا ہے جو اَنجام کے اعتبار سے اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے ۔ بعض اوقات اس کا بہتر ہونا دنیا میں پتہ چل جاتا ہے اور بعض کا آخِرت میں معلوم ہوگا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دریائے نیل کے نام خط
دریائے نیل ہرسال خشک ہوجایا کرتا تھا ،جس سے جہالت کی بنیاد پر لوگ یہ بَدشگونی لیتے کہ دریا کو جان کی طَلَب ہے چنانچہ وہ ایک کنواری لڑکی کو عمدہ لباس اور نفیس زیور سے سجاکر دریائے نیل میں ڈال دیتے جس کے بعد دریا جاری ہوجایا کرتا تھا ۔ جب مصرفتح ہوا تو ایک روز اہلِ مِصرنے حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہسے عرض کی: اے امیر! ہمارے دریائے نیل کی ایک رسم ہے جب تک اس کو ادانہ کیاجائے دریاجاری نہیں رہتا ۔انہوں نے اِستفسار فرمایا:کیا؟ کہا: ہم ایک