Brailvi Books

بدشگونی
52 - 127
اگر استخارے کے بعد بھی نقصان اٹھانا پڑے تو؟
	 بعض اوقات انسان اللہ عَزَّوَجَلَّ سے استخارہ کرتا ہے کہ جس کام میں  میرے لیے بہتری ہو وہ ہوجائے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لیے وہ کام عطا کرتا ہے جو اس کے حق میں  بہتر ہوتا ہے لیکن ظاہِری اعتبار سے وہ کام اس شخص کی سمجھ میں  نہیں  آتا تو اس کے جی میں  آتا ہے کہ میں  نے تواللہ عَزَّوَجَلَّ سے یہ چاہا تھا کہ مجھے وہ کام ملے جو میرے لئے بہتر ہو لیکن جو کام ملا وہ تو مجھے اچھا نظر نہیں  آرہا ہے ، اس میں  میرے لیے تکلیف اور پریشانی ہے ، لیکن کچھ عرصے بعد جب اَنجام سامنے آتا ہے تب اس کو پتہ چلتا ہے کہ حقیقت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے لئے جو فیصلہ کیا تھا وہی اس کے حق میں  بہتر تھا ۔  حضرتِ سیِّدُنامکحول اَزدی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی بیان کرتے ہیں  :میں  نے حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما  کو فرماتے سنا کہ آدمی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے استخارہ کرتا ہے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ  اس کے لیے کوئی کام پسند فرماتا ہے تو وہ آدمی اپنے رب سے ناراض ہوجاتا ہے لیکن جب وہ آدمی اس کے اَنجام میں  نظر کرتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ یہی اس کے لیے بہتر ہے۔(کتاب الزہد لابن مبارک،مارواہ نعیم بن حمادالخ،با ب فی الرضا بالقضا،ص۳۲،حدیث:۱۲۸)
	اس کی مثال یوں  سمجھیں  بخار میں  تپنے ولا بچہ ماں  باپ کے سامنے مچل رہا ہے کہ فلاں  چیز کھاؤں  گا اور ماں  باپ جانتے ہیں  کہ اس وَقْت یہ چیز کھانا بچے کے لیے نقصان دہ اور مہلک ہے ، چنانچہ ماں  باپ بچے کو وہ چیز نہیں  دیتے بلکہ کڑوی