صِرْف دُعا کے ذریعے بھی استخارہ کیا جاسکتا ہے
علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامیفتاویٰ شامی میں لکھتے ہیں :وَلَوْ تَعَذَّرَتْ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ اِسْتَخَارَ بِالدُّعَاءِیعنی اوراگر کسی پر نماز ِاستخارہ پڑھنادشوار ہوجائے تو وہ دُعا کے ذریعے اِستخارہ کر لے ۔(رَدُّالْمُحتَار،کتاب الصلاۃ، مطلب فی رکعتی الاستخارۃ،۲/۵۷۰)
استخارہ کی مختصردعائیں
مشہور محدّث حضرت علامہ ملاعلی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری ’’مِرقَاۃُ الْمَفَاتِیْح‘‘ میں لکھتے ہیں : جسے کام میں جلدی ہو تو وہ صرف یہ کہہ لے: اَللّٰهُمَّ خِرْ لِيْ وَاخْتِرْلِیْ وَاجْعَلْ لِیَ الْخِیَرَۃَ (اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرا کام بہتر کردے اورمیرے لیے( دو کاموں میں سے بہترکو) اختیار فرماکر (اس میں )میرے لیے بہتری رکھ دے)یایہ کہے: اَللّٰهُمَّ خِرْ لِيْ وَاخْتِرْلِیْ وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی اِخْتِیَارِیْ (اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرا کام بہتر کردے اور میرے لیے( دو کاموں میں سے بہترکو) اختیار فرما اور مجھے میری پسند کے حوالے نہ فرما) ( مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، باب التطوع ،۳ / ۴۰۶)
بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین سے اِستخارہ کرنے کے اور بھی کئی طریقے اور وظائف منقول ہیں مثلاً تسبیح کے ذریعے اِستخارہ کرنا جوقلیل وَقْت میں مکمل ہوجاتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد