Brailvi Books

بدشگونی
48 - 127
	(اے اللہ(عَزَّوَجَلَّ ) میں  تیرے عِلْم کے ساتھ تجھ سے خیر طَلَب کرتا(کرتی) ہوں  اور تیری قدرت کے ذریعہ سے طلبِ قدرت کرتا(کرتی) ہوں  اورتجھ سے تیرافضل عظیم مانگتا (مانگتی)ہوں  کیونکہ توقدرت رکھتا ہے اور میں  قدرت نہیں  رکھتا (رکھتی )تو سب کچھ جانتا ہے اورمیں  نہیں  جانتا (جانتی) اور توتمام پوشیدہ باتوں  کو خوب جانتا ہے، اے اللہ(عَزَّوَجَلَّ) اگر تیرے عِلْم میں  یہ اَمْر (جس کا میں  قصد واِرادہ رکھتا(رکھتی) ہوں ) میرے دین و ایمان اور میری زندگی اور میرے اَنجام کار میں  دنیا و آخِرت میں  میرے لیے بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر کردے اور میرے لیے آسان کردے پھر اس میں  میرے واسطے بَرَکت کردے ۔اے اللہ(عَزَّوَجَلَّ  ) اگرتیرے عِلْم میں  یہ کام میرے لیے بُرا ہے میرے دین وایمان میری زندگی اور میرے اَنجام کار دنیا وآخِرت میں  تو اس کومجھ سے اور مجھ کو اس سے پھیر دے اور جہاں  کہیں  بہتری ہو میرے لیے مقدر کرپھر اس سے مجھے راضی کردے۔)(بُخارِی،کتاب التہجد،باب ما جاء فی التطوع مثنی مثنی،۱ /۳۹۳،حدیث:۱۱۶۲، رَدُّالْمُحتار،کتاب الصلاۃ،مطلب فی رکعتی الاستخارۃ،۲/۵۶۹)
	علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی فرماتے ہیں : حدیث میں  وار ِد اس دعامیں  ’’ھٰذَا الْاَمْرَ‘‘کی جگہ چاہے تو حاجت کا نام لے یا اُس کے بعد۔  (ردالمحتار ۲/۵۷۰)یعنی اگر عربی جانتا ہے تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے یعنیھٰذَا الْاَمْرَ کی جگہ اپنے کام کا نام لے، مثلاً ھٰذَا السَّفْرَ یا ھٰذَا النِّکَاحَ یا  ہٰذِہِ التِّجَارَۃَ یا ہٰذَا الْبَیْعَ کہے ، اور اگر عربی نہیں  جانتا تو’’ھٰذَا الْاَمْرَ ‘‘ہی کہہ کر دل میں  اپنے اس کام کے بارے میں  سوچے اور دھیان دے جس کے لیے استخارہ کررہا ہے۔