Brailvi Books

بدشگونی
47 - 127
	 استخارہ کا مطلب طلبِ خیر (یعنی بھلائی کو طَلَب کرنا)ہے چنانچہ استخارہ کر لینے کے بعد اس پر عمل کرنا بہتر ہے ،ہاں ! کسی سبب سے عمل نہ کیا تو گناہ گار نہیں  ہو گا۔  
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
استخارہ کے مختلف طریقے 
	اِستخارہ چونکہ رب عَزَّوَجَلَّ سے خیر مانگنے یا کسی سے بھلائی کا مشورہ کرنے کو کہتے ہیں  ، اس لئے مختلف دعاؤں  کے ذریعے رب تعالیٰ سے استخارہ کیا جاتا ہے ، جس میں  سے ایک دُعا نماز کے بعد مانگی جاتی ہے اسی وجہ سے اس نماز کو نمازِ استخارہ کہا جاتا ہے ۔
نمازِ استخارہ کا طریقہ 
	جب کوئی کسی اَمْر کا قصد کرے تو دو رکعت نفل پڑھے پھر کہے:
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ وَاَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَاَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيْمِ فَاِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ اَللّٰهُمَّ اِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ هٰذَا الْاَمْرَ خَيْرٌ لِّیْ فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ اَمْرِيْ اَوْ قَالَ عَاجِلِ اَمْرِي وَاٰجِلِهٖ فَاقْدِرْهُ لِيْ وَيَسِّرْهُ لِيْ ثُمَّ بَارِكْ لِيْ فِيْهِ وَاِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ هٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِيْ فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ اَمْرِيْ اَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ اَمْرِيْ وَاٰجِلِهٖ فَاصْرِفْهُ عَنِّيْ وَاصْرِفْنِيْ عَنْهُ وَاقْدِرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِیْ بِہٖ