Brailvi Books

بدشگونی
46 - 127
شرط ہے کہ وہ کام جائز ہو ناجائز کاروبار وغیرہ کے لئے استخارہ نہیں  کیا جائے گا۔ حکیم الامت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الغَنِی استخارہ سے متعلق حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے اِرشادفرماتے ہیں : بشرطیکہ وہ کام نہ حرام ہو ،نہ فرض و واجب اور نہ روز مرہ کا عادی کام ، لہٰذا نماز پڑھنے ،حج کرنے یا کھانا کھانے ،پانی پینے پر استخارہ نہیں  ۔(مراٰۃُ المناجیح، ۲ / ۳۰۱ ) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اس کام کا مکمل اِرادہ نہ کیا ہو
	اِستخارہ کے آداب میں  سے یہ بھی ہے کہ اِستخارہ ایسے کام کے متعلق کیا جائے جس کے کرنے کے بارے میں  طبیعت کا کسی طرف مَیلان نہ ہو کیونکہ اگر کسی ایک طرف رَغبت پیدا ہوچکی ہوگی تو پھر اِستخارہ کی مدد سے صحیح صورتحال کا واضح ہونا بہت مشکل ہوجائیگا ۔ ( فتح الباری،۱۲/ ۱۵۵ملخصاً)صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی بہارِشریعت جلد1صفحہ683پر لکھتے ہیں :استخارہ کا وَقْت اس وَقْت تک ہے کہ ایک طرف رائے پوری جَم نہ چکی ہو۔(بہارشریعت۱/۶۸۳)مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان لکھتے ہیں  :یہ بھی ضَروری ہے کہ اس کام کا پورہ اِرادہ نہ کیا ہو صِرْف خیال ہو ،جیسے کوئی کارو بار ،شادی بیاہ، مکان کی تعمیر وغیرہ کا معمولی اِرادہ ہو اور تردّدہو کہ نہ معلوم اس میں  بھلائی ہو گی یا نہیں  تو استخارہ کرے ۔(مراٰۃُ المناجیح، ۲ / ۳۰۱  )