استخارہ چھوڑنے کا نقصان
سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:مِنْ شَقَاوَۃِ بْنِ آدَمَ تَرْکُہُ اسْتِخَارَۃَ اللہِ یعنی بندے کی بَدبختی میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اِستخارہ کرنا چھوڑ دے۔ (ترمذی،کتاب القدر، باب ما جاء فی الرضا بالقضاء ، ۴/۶۰،حدیث :۲۱۵۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اِستخارہ کن کاموں کے بارے میں ہوگا ؟
صِرْف ان کاموں کے بارے میں استخارہ ہوسکتا ہے جو ہر مسلمان کی رائے پر چھوڑے گئے ہیں مثلاً تجارت یا ملازمت میں سے کس کا انتخاب کیا جائے ؟ سفر کے لئے کون سا دن یا کون سا ذریعہ مناسب رہے گا ؟ مکان ودکان کی خریداری مفید ہوگی یا نہیں ؟ کون سے علاقے میں رہائش مناسب ہوگی ؟ شادی کہاں کی جائے ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ جن کاموں کے بارے میں شریعت نے واضح اَحکام بیان کردئیے ہیں ان میں استخارہ نہیں ہوتا جیسے پنج وقتہ فرض نمازیں ،مالدار ہونے کی صورت میں زکوۃ کی ادائیگی رمضان المبارک کے روزے وغیرہ کے بارے میں استخارہ نہیں کیا جائے گا کہ میں نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں ؟ زکوۃ ادا کروں یا نہ کروں ؟ اسی طرح جھوٹ بولنا یا کسی کی حق تلفی کرنا وغیرہ جن کاموں سے شریعت نے منع کیا ہے وہ کروں یا نہ کروں ؟ بلکہ ان تمام کاموں میں شریعت کی ہدایات پر عمل کرنا ضَروری ہے نیز استخارہ کے لئے یہ بھی