اِِستِخارہ سکھاتے تھے
سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لوگوں کو فال کی جگہ اِستخارہ کی تعلیم دی ہے،چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے کہ رسولِ اکرم نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہم کو تمام اُمور میں استخارہ تعلیم فرماتے جیسے قرآن کی سُورت تعلیم فرماتے تھے۔
(بُخارِی،کتاب التہجد،باب ما جاء فی التطوع مثنی مثنی،۱/۳۹۳،حدیث۱۱۶۲)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :اِستخارہ کے معنی ہیں خیر مانگنا یا کسی سے بھلائی کا مشورہ کرنا،چونکہ اس دُعا و نماز میں بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے گویا مشورہ کرتا ہے کہ فلاں کام کروں یا نہ کروں اسی لئے اسے اِستخارہ کہتے ہیں۔(مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۳۰۱ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اِستخارہ کرنے والا نقصان میں نہیں رہے گا
حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: مَا خَابَ مَنِ ا سْتَخَارَ، وَلَا نَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ، وَلَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ یعنی جو اِستخارہ کرے وہ نقصان میں نہ رہے گا ،جو مُشاورت سے کام کرے وہ پشیمان نہ ہوگا اور جس نے میانہ رَوِی اختیار کی وہ محتاج نہ ہوگا۔(مجمع الزوائد،کتاب الصلاۃ،باب الاستخارۃ، ۲ / ۵۶۶،حدیث:۳۶۷۰)