فال کھولنیکے بارے میں اعلیٰ حضرت کا فتویٰ
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے ایسے شخص کے بارے میں سُوال کیا گیا کہ جو شخص فال کھولتا ہو، لوگوں کو کہتاہو : تمہاراکام ہو جائے گا یا نہ ہوگا ، یہ کام تمہارے واسطے اچھا ہو گا یا بُراہو گا ،اس میں نفع ہو گا یا نقصان ؟تواعلیٰ حضرترحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے جواب دیا:(۱)اگر یہ احکام قطع ویقین کے ساتھ لگاتا ہو جب تووہ مسلما ن ہی نہیں ، اس کی تصدیق کرنے والے کو صحیح حدیث میں فرمایا:فَقَدْ کَفَرَ بِمَانُزِّل عَلٰی مُحَمَّد یعنی اس نے اس چیز کے ساتھ کُفْر کیا جو محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم پر اُتاری گئی ۱؎ اور(۲) اگر یقین نہیں کرتا جب بھی عام طور پر جو فال دیکھنا رائج ہے معصیت (یعنی گناہ)سے خالی نہیں ۔( فتاوی ٰرضویہ، ۲۳/ ۱۰۰ملخصًا)
فال کی اُجرت لینے کا حکم
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان تفسیرِ نعیمی میں لکھتے ہیں :فال کھولنا یافال کھولنے پر اُجرت لینا یادینا سب حرام ہے۔( نور العرفان ،پ۷،المائدہ ۹۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱ : ترمذی،کتاب الطہارۃ،باب ما جاء فی کراہیۃ اتیان الحائض،۱/۱۸۵،حدیث:۱۳۵