پاس رہتے تھے ۔ مشرکین جب کہیں جانے یا بیاہ کرنے کا اِرادہ کرتے یا انہیں اور بھی کوئی ضرورت ہوتی تو یہ خادم پانسہ پھینکتا اگر ’’نَعَمْ(ہاں )‘‘نکلتا تو وہ کام کرتے اگر ’’لَا(نہیں )‘‘ نکلتا تو نہیں کرتے اور اگر کسی کے نسب میں شک ہوتا تو ان تین تیر کا پانسہ پھینکتے جن پر’’مِنْھُمْ‘‘، ’’مِنْ غَیْرِھِمْ ‘‘، ’’مُلْصَق ‘‘ ہوتا اگر’’مِنْھُمْ(ان میں سے)‘‘ نکلتا تو کہتے اس کا نسب دُرُست ہے اور اگر ’’مِنْ غَیْرِھِمْ (ان کے علاوہ میں سے)‘‘ نکلتا تو کہتے یہ اس قوم کا نہیں اس کا حلیف ہے اور اگر ’’مُلْصَق (وابستہ ہونے والا)‘‘ نکلتا تو کہتے کہ اس کا اس قوم سے نہ نسب ہے نہ اس کا حلیف ہے اور اگر کوئی جُرم کرتا اور اس میں اختلاف ہوتا کہ اس کی دیت (مالی تاوان) کس پر ہے تو بقیہ دونوں تیر سے کام لیتے ،ایک فریق کو متعین کرکے پانسہ ڈالتے اگر اس کے نام پر’’عَقْل (دیت)‘‘ والا تیر آجاتا تو اس پر دیت لازم کردیتے اور دوسرے فریق کو بَری(یعنی آزاد) اور اگر ان سے دیت کی پوری رقم وصول نہ ہوتی اور اختلاف ہوتا کہ کون ادا کرے ؟ تو پھر ’’فَضْلُ الْعَقْل (بقیہ دیت)‘‘ والا تیر پھینکتے جس کے نام پر گر تاوہ اداکرتا ۔ اس کی تفصیل میں اور بھی اَقوال ہیں میں نے تعارف کے لئے یہ ایک ذِکْرکردیا ہے ۔ یہ توہُّم پرستی تھی جہالت تھی بلکہ نسب اور دیت کے معاملے میں ظُلْم ، اس لئے اسلام نے اسے سختی سے منع فرما دیا ہے ،اِرشادہے : وَ اَنۡ تَسْتَقْسِمُوۡا بِالۡاَزْلَامِ (پ۶،المائدۃ:۳)تم پر حرام کیا گیا ہے پانسوں سے قسمت کا حال معلوم کرنا ۔ (نزھۃالقاری ،۳/۱۰۵)