انہوں نے کبھی فال کا تیر نہیں پھینکا
حضرتِ سیِّدُناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے جب بیتُ اللہ میں تصویریں دیکھیں تو داخل نہ ہوئے یہاں تک کہ انہیں آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حکم سے مٹادیا گیا، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم اورحضرتِ سیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِمَا السَّلام کی تصویروں کو دیکھا کہ ان کے ہاتھوں میں فال کے تیر تھے ،آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ ان لوگوں (یعنی تصویر بنانے والوں ) کو ہلاک کرے،بخدا!ان دونوں بزرگوں نے کبھی ان تیروں کے ذریعے قسمت معلوم نہیں کی۔
(بخاری، کتاب احادیث الانبیاء ،۲/۴۲۱،الحدیث۳۳۵۲)
فال کے تیر کیسے ہوتے تھے ؟
شارحِ بُخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃُ اللہِ القویاس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : مشرکین نے فال کے سات تیر بنالئے تھے ایک پر لکھا تھا ’’نَعَمْ(ہاں )‘‘ دوسرے پر ’’لَا(نہیں )‘‘تیسرے پر’’مِنْھُمْ(ان میں سے)‘‘ چوتھے پر ’’مِنْ غَیْرِھِمْ (ان کے علاوہ میں سے)‘‘ پانچویں پر ’’مُلْصَق (وابستہ ہونے والا)‘‘ چھٹے پر ’’اَلْعَقْل (دِیت)‘‘۱؎ ساتویں پر ’’فَضْلُ الْعَقْل (بقیہ دیت)‘‘ ۔یہ تیر کعبے کے خادم کے
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱ : دِیت اس مال کو کہتے ہیں جو نفس (جان)کے بدلے میں لازم ہوتا ہے (بہار شریعت۳/۸۳۰))