Brailvi Books

بدشگونی
40 - 127
ہے ۔(بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ، باب الخامس والعشرون ،۲/ ۳۸۶) 
ایک عبرت انگیز حکایت 
	 ایک دن وَلِیْدبِنْ یَزِیْدبِنْ عبد الملک نے قرآن پاک سے فال نکالی توجیسے ہی قرآن پاک کھولا تو یہ آیت مبارکہ نکلی:
وَاسْتَفْتَحُوۡا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۱۵﴾(پ۱۳،ابراہیم۱۵)
ترجمہ کنز الایمان: اور انہوں  نے فیصلہ مانگا اور ہر سر کش و ہٹ دھرم نامُراد ہوا۔
تو وَلِیْدبِنْ یَزِیْد نے قرآن پاک کو( مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ) شہید کر دیااور یہ شعر پڑھا:
أَتَوَعَّدُ کُلَّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ	 فَہَا أَنَا ذَاکَ جَبَّارٌ عَنِیدُ
إذَا مَا جِئْتَ رَبَّک یَوْمَ حَشْرٍ 	فَقُلْ یَا رَبِّ خَرَّقَنِی الْوَلِیدُ
ترجمہ: کیا تُو ہر سرکش وہٹ دھرم کو د ھمکی دیتاہے(مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ)، ہاں  !میں  ہوں  وہ سرکش وہٹ دھرم ،جب تُوقیامت کے دن اپنے رب کے پاس حاضرہو توکہہ دینامجھے ولید نے شہید کیاتھا۔
	اس سانحے کے تھوڑے ہی دنوں  کے بعدکسی نے ولید کوبے دردی سے قتل کر دیا، اس کے سر کو پہلے اس کے محل پھر شہر کی دیواروں  پر لٹکادیا گیا۔ (ادب الدنیا والدین،ص۲۷۶) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد