Brailvi Books

بدشگونی
39 - 127
	صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللہِ الہادی لکھتے ہیں  :زمانہ جاہلیت کے لوگوں  کو جب سفر یا جنگ یا تجارت یا نکاح وغیرہ کام دَرپیش ہوتے تو وہ تین تیروں  سے پانسے ڈالتے اور جو نکلتا اس کے مطابق عمل کرتے اور اس کو حکمِ الٰہی جانتے ، ان سب کی ممانعت فرمائی گئی ۔ (خزائن العرفان،ص۲۰۷) بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ میں  ہے: تین تیروں  میں  سے ایک پر لکھا ہوتا:’’اَ مَرَنِی رَ بِّی (یعنی مجھے میرے رب نے حکم دیا)‘‘دوسرے پر :’’ نَہَانِی رَبِّی(یعنی مجھے میرے رب نے روکا)‘‘ اور تیسرے تیر پر کچھ نہ لکھا ہوتا ،اگر پہلا تیر نکلتا تو وہ کام کرلیا کرتے ،اگر دوسرا نکلتا تو اس کام سے رُک جاتے اور اگر تیسرا نکلتا تو دوبارہ پانسے ڈالتے ۔ان تیروں اور اس طرح کی دوسری چیزوں  کا استعمال جائز نہیں  ۔
(بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ، باب الخامس والعشرون،۲/ ۳۸۵)
قراٰنی فال نکالنا ناجائز ہے 
	بعض لوگ قرآن مجید کا کوئی بھی صفحہ کھول کر سب سے پہلی آیت کے ترجمے سے اپنے کام کے بارے میں  خودساختہ مفہوم اَخذکرکے فال نکالتے ہیں  ،اس طرح فال نکالنا ناجائز ہے۔حدیقہ ندیہ میں  ہے :قرآنی فال، فالِ دانیال اور اس طرح کی دیگر فال جو فی زمانہ نکالیں  جاتی ہیں  نیک فالی میں  نہیں  آتیں  بلکہ ان کا بھی وہی حکم ہے جو پانسوں  کے تیر وں  کا ہے لہٰذا یہ ناجائز ہیں۔(حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ ، ۲/۲۶ملخصًا) جبکہ بریقہ محمودیہ میں  ہے : قرآن پاک سے بَدشگونی لینا مکروہِ تحریمی