Brailvi Books

بدشگونی
37 - 127
واقف نہ تھا۔جب میں  دریا کے کنارے پہنچا تو وہاں  کوئی کشتی موجود نہیں تھی ، میں  نے اسے بَدفالی پر محمول کیا۔ پھر مجھے ایک کشتی نظر آئی مگر اس میں  سوراخ تھا ،یہ دوسری بَدفالی ہوئی۔میں  نے کشتی کے ملاح کا نام پوچھا تو اس نے ’’ دیوزادہ ‘‘بتایا (جسے عربی میں  شیطان کہا جاتا ہے )یہ تیسری بَدفالی تھی۔بہرحال میں  اس کشتی پر سوار ہوگیا،جب دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچا تو میں  نے آواز لگائی : اے بوجھ اٹھانے والے مزدور! میرا سامان لے چلو،اس وَقْت میرے پاس ایک پُرانا لحاف اور کچھ ضَروری سامان تھا۔جس مزدُورنے مجھے جواب دیا وہ ایک آنکھ والا (یعنی کانا)تھا،میں  نے کہا:یہ چوتھی بَدفالی ہے۔میرے جی میں  آئی کہ یہاں  سے واپس لوٹ جانے میں  ہی عافیت ہے لیکن پھر اپنی حاجت کو یاد کرکے واپسی کا اِرادہ تَرْ ک کردیا۔ جب میں سرائے(مسافر خانے) پہنچا اور ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا کروں  کہ اتنے میں  کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔میں  نے پوچھا: کون؟تو جواب ملا کہ میں  آپ سے ہی ملنا چاہتا ہوں۔میں  نے پوچھا:کیا تم جانتے ہو کہ میں  کون ہوں ؟اس نے کہا:ہاں۔میں  نے دل میں  کہا:’’یا تو یہ دشمن ہے یا پھر بادشاہ کا قاصِد!‘‘ میں  نے کچھ دیرسوچنے کے بعد دروازہ کھول دیا۔اس شخص نے کہا :مجھے فلاں  شخص نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ اگرچہ میرے آپ سے اِختلافات ہیں  لیکن اخلاقی حقوق کی ادائیگی ضَروری ہے،میں نے آپ کے حالات سُنے ہیں  اسلئے مجھ پر لازِم ہے کہ آپ کی ضروریات کی کفالت کروں۔اگر آپ ایک یا دو ماہ تک ہمارے یہاں  قیام کریں  تو