تھا کہ جس مقتول کا قِصاص(یعنی بدلہ) نہ لیا جائے وہ ’’ھامّہ‘‘ ہوجاتا ہے، اور وہ کہتا رہتا ہے مجھے پلاؤ مجھے پلاؤ، جب اس کا قصاص لے لیا جاتا ہے تو وہ اُڑ جاتا ہے۔ ان سب تَوَہُّمات کا حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے رَد فرمایا کہ یہ سب کچھ نہیں ہے۔(نزھۃ القاری، ۵/۵۰۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کیا گھر بدلنے سے بَرَکت خَتْم ہوجاتی ہے؟
منقول ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : یارسول اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہم ایک مکان میں رہتے تھے ،اس میں ہمارے اہل وعیال کثیر اور مال کثرت سے تھا پھر ہم نے مکان بدلا چنانچہ ہمارے مال اور اہل وعیال کم ہوگئے ۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: چھوڑو! ایسا کہنا بُری بات ہے ۔(ادب الدنیا والدین للماوردی، ص۲۷۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بَدشگونی لینا میرا وہم تھا
تفسیر روح البیان میں ہے کہ ایک شخص کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں اتنا تنگ دَست ہوگیا کہ بھوک مٹانے کے لئے مٹی کھانی پڑی مگر پھر بھی بھوک ستاتی رہی۔میں نے سوچا کاش ! کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے کھانا کھلا دے ، چنانچہ میں ایسے شخص کی تلاش میں اِیران کے شہر اَہواز کی طرف روانہ ہوا حالانکہ وہاں میرا کوئی