شارحِ بُخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃُ اللہِ القوینے اس حدیث کی جو شرح فرمائی ہے اس سے حاصل ہونے والے چند مَدَنی پھول پیش کرتا ہوں : ٭ اہلِ جاہلیت کا اِعتقاد تھا کہ بعض بیماریاں ایسی ہیں جو دوسرے کو لگ جاتی ہیں ، جیسے جُذام، خارش، طاعون وغیرہ، اس کی حضوراقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے نفی فرمائی۔ ایک اَعرابی حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی کہ ہمارے اونٹ صاف سُتھرے اچھے ہوتے ہیں ، اس میں ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے اور سب کو خارش زدہ بنادیتا ہے، حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کس نے پہلے کو خارش زدہ بنایا؟ انہوں نے عرض کی :اللہ نے ۔فرمایا: اسی طرح سب کواللہنے خارش زدہ بنایا۔ ئعرب کی عادت تھی کہ جب سفر کے لیے نکلتے تو اگر کوئی پرندہ داہنے طرف سے اڑتا تو اس کو مبارک جانتے اور اگر بائیں طرف اڑتا تو اس کو بُرا شگون جانتے، اس قسم کے اور بھی توہّمات پھیلے ہوئے تھے اور آج ہمارے بھی معاشرے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اِن تمام تَوَہُّمات کو دَفع (یعنی دُور) فرمایا۔ ٭’’ھَامَّۃ‘‘ ایک چڑیا کا نام ہے، ایک قول ہے کہ یہ اُلّوہے، اہلِ جاہلیت کا اِعتقاد تھا کہ یہ چڑیا جب کسی گھر پر بیٹھتی ہے تو اس گھر میں کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے۔ آج بھی جاہلوں میں یہ مشہور ہے کہ اُلّوجس گھر میں بولے یا جس گھر کی چھت پر بولے اس گھر میں کوئی مصیبت نازل ہوگی۔ ایک قول یہ ہے کہ اہلِ جاہلیت کا اِعتقاد تھا کہ مُردہ کی ہڈیاں ’’ ھامّہ‘‘ ہو کر اُڑتی ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ ان کا اِعتقاد یہ