Brailvi Books

بدشگونی
34 - 127
پرندے بھی تقدیر کے مطابق ہی اُڑتے ہیں  
	حضرتِ سیِّدُنااَ بُوْبُرْدَہرحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ بیان کرتے ہیں : میں  حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا  کی خدمت میں  حاضر ہوا اور عرض کی: مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے  رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے خودسُنی ہو؟اُمُّ المؤمنین  رضی اللہ تعالٰی عنہانے جواب دیا: رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشادفرمایا:پرندے تقدیر کے مطابق اُڑتے ہیں   ۱؎  اور نبی کریمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اچھی فال کو پسند فرماتے تھے۔(مسند امام احمد،۹/۴۵۰،الحدیث۲۵۰۳۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بَد فالی کی کچھ حقیقت نہیں  ہے 
	  بخاری شریف میں  حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مَرْوی ہے کہ سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: عَدویٰ نہیں ( یعنی مرض لگنا اور متعدی ہونا نہیں  )ہے اور نہ بَدفالی ہے اور نہ ھَامَّۃ ہے، نہ صفر  اور مَجْذُوم سے بھاگو، جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔ (بخاری ، کتاب الطب ، باب الجذام ،۴/ ۲۴،حدیث : ۵۷۰۷،و عمدۃ  القاری ، کتاب الطب، باب الجذام ، ۱۴/ ۶۹۲، تحت الحدیث: ۵۷۰۷)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱   :اس لیے ان کے دائیں بائیں اڑنے میں کوئی تاثیر نہیں ہے۔(التیسیر بشرح جامع الصغیر،۲/ ۱۲۳))