تو وہ اس سے نیک شگون لیتا اور اپنے کام پر روانہ ہوجاتا اور اگر وہ پرندہ بائیں جانب اُڑتا تو وہ اس سے بَدشگونی لیتا اور لَوٹ آتا، بعض اوقات وہ کسی مہم پر روانہ ہونے سے پہلے خود پرندے کو اُڑاتے تھے، پھر جس جانب وہ اُڑتا تھا اس پر اِعتماد کرکے اس کے مطابق مہم پر روانہ ہوتے یا رُک جاتے۔جب شریعت آگئی تو ان کو اس طریقہ سے روک دیا۔(فتح الباری،کتاب الطب،باب الطیرۃ،۱۱/۱۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
یہ تمہارے ذہن کا وہم ہے
حضرتِ سیِّدُنامعاویہ بن حَکَمْ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں :میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی :یارسول اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ہم زمانہ جاہلیت میں کچھ کام کرتے تھے(آپ ہمیں ان کا حکم بتائیے؟)ہم کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے ،سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اِرشادفرمایا:کاہنوں کے پاس مت جاؤ،میں نے پوچھا:ہم (پرندوں وغیرہ سے) شگون بھی لیتے تھے؟ اِرشادفرمایا: یہ ایک چیز (یعنی خیال)ہے جسے تم میں سے کوئی اپنے دل میں پاتاہے لیکن یہ تمہیں (تمہاری حاجت وغیرہ سے)نہ روک دے۔(مسلم،کتاب السلام،باب تحریم الکھانۃ و اتیان الکھان ص۱۲۲۳، الحدیث۵۳۷ مع مرقاۃ المفاتیح،کتاب الطب و الرقی،الفصل الاول ،۸/۳۵۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد