برائی کی نسبت اپنی طرف کرنی چاہئے
سورۃ النساء آیت 78میں اِرشادہوتا ہے : مَاۤ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللہِ ۫ وَمَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ سَیِّئَۃٍ فَمِنۡ نَّفْسِکَ ؕ(پ۵،النساء :۷۹)
ترجمۂ کنزالایمان :اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے ۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں :کہ تو نے ایسے گناہوں کا اِرتکاب کیا کہ تو اس کا مستحق ہوا۔ مسئلہ:یہاں بُرائی کی نسبت بندے کی طرف مَجاز ہے اور اُوپر جو مذکور ہوا وہ حقیقت تھی ۔بعض مفسّرین نے فرمایا کہ بَدی کی نسبت بندے کی طرف برسبیلِ ادب ہے ،خلاصہ یہ کہ بندہ جب فاعلِ حقیقی کی طرف نظر کرے تو ہر چیز کو اُسی کی طرف سے جانے اور جب اَسباب پر نظر کرے تو بُرائیوں کو اپنی شامت ِنَفْس کے سبب سے سمجھے۔(خزائن العرفان،ص۱۷۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مشرکین بَدشگونی لیا کرتے تھے
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعیعلیہ رحمۃُ اللہِ الہادیلکھتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں مشرکین پرندوں پر اِعتماد کرتے تھے، جب ان میں سے کوئی شخص کسی کام کے لیے نکلتا تو وہ پرندے کی طرف دیکھتا اگر وہ پرندہ دائیں طرف اُڑتا