Brailvi Books

بدشگونی
30 - 127
کی سزا میں  کبھی وہاں  وَقْت پر بارش نہ ہوتی کبھی پھل کم ہوتے جیسے کہ گزشہ امتوں  کا حال ہوتا رہا ہے تو مَردُود یہودی اور منافقین بولے کہ نَعُوْذُ بِاللہِ  ان صاحب (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )کے قدم آنے سے ہمارے ہاں  کی خیروبَرَکت کم ہوگئی ،یہ سب مصیبتیں  ان کی آمد سے ہوئیں  ،ان کی تَردِید میں  یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں :)اب بھی بعض کفار مسلمانوں  کو منحوس کہتے ہیں  بلکہ بعض جاہل مسلمان نمازی پرہیزگار متقی مسلمان کو منحوس اور ان کے نیک اعمال کو نُحوست کہتے سنے گئے ، یہ سب انہی شیاطین کا تَرَکَہ (یعنی چھوڑی ہوئی چیز)ہے ۔ (تفسیر نعیمی، ۵/۲۴۰)
حضور پُرنورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کی آمد سے یَثْرَب مدینہ بنا
	مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں :اس زمانہ پاک میں صِدِّیقِین تو کہتے تھے : حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی تشریف آوری سے ہمارایَثْرَب مدینہ شریف بن گیا ،یہاں  کی خاک شفا، یہاں  کی آب وہوا علاج ہوگئے مگر منافقین ویہود یعنی زِندیقین کہتے تھے کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کے قدم سے مدینہ کی برکتیں  اُڑ گئیں  ،۔۔۔۔۔اعلیٰ حضرت(رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ) نے کیا خوب فرمایا ہے :   ؎
کوئی جان بس کے مہک رہی کسی دل میں  اس سے کھٹک رہی!
نہیں  اس کے جلوے میں  یک رہی کہیں  پھول ہے کہیں  خار ہے
ہم نے عرض کیا ہے :   ؎