تاکہ تیری اور ان کی عزّت ظاہِر ہو ۔ بادشاہ نے حضرت شمعون(رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے کہا کہ تم سے کچھ چُھپانے کی بات نہیں ہے ،ہمارا معبود نہ دیکھے ، نہ سنے ، نہ کچھ بگاڑ سکے ، نہ بنا سکے پھر بادشاہ نے ان دونوں حواریوں سے کہا کہ اگر تمہارے معبود کو مُردے کے زندہ کر دینے کی قدرت ہو تو ہم اس پر ایمان لے آئیں ۔انہوں نے کہا : ہمارا معبود ہر شے پر قادِر ہے ، بادشاہ نے ایک کسان کے لڑکے کو منگایا جس کو مرے ہوئے سات دن ہو گئے تھے اور جسم خراب ہو چکا تھا ، بَدبو پھیل رہی تھی ، ان کی دُعا سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کو زندہ کیا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں مُشرِک مرا تھا مجھ کو جہنّم کی سات وادیوں میں داخل کیا گیا ، میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ جس دین پر تم ہو بہت نقصان دہ ہے ، ایمان لاؤ اور کہنے لگا کہ آسمان کے دروازے کھلے اور ایک حسین جوان مجھے نظر آیا جو ان تینوں شخصوں کی سفارش کرتا ہے ۔بادشاہ نے کہا: کون تین ؟اس نے کہا :ایک شمعون اور دو یہ (قیدی)۔(یہ سُن کر)بادشاہ کو تعجّب ہوا۔جب حضرتِ شمعون(رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے دیکھا کہ ان کی بات بادشاہ میں اثر کر گئی تو انہوں نے بادشاہ کو نصیحت کی وہ ایمان لایا اور اس کی قوم کے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نہیں لائے بلکہ کہنے لگے: ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں جب سے تم آئے ہو بارش ہی نہیں ہوئی ،بیشک تم اگر اپنے دین کی تبلیغ سے باز نہ آئے تو ضَرورہم تمہیں سنگسار کریں گے اور بیشک ہمارے ہاتھوں تم پر دکھ کی مار پڑے گی ۔انہوں نے فرمایا: تمہاری نُحوست(یعنی تمہار ا کُفر) تو تمہارے ساتھ ہے ، کیا اس پر بَدکتے ہو کہ تم سمجھائے گئے