کے سوا اور کوئی معبود ہے ؟ ان دونوں نے کہا :’’ہاں ! وہی جس نے تجھے اور تیرے معبودوں کو پیدا کیا‘‘ ،پھر لوگ ان کے دَرپے ہوئے اور انہیں مارا اور یہ دونوں قید کر لئے گئے پھر حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی َعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے حضرتِ شمعون (رضی اللہ تعالٰی عنہ)کو بھیجا وہ اجنبی بن کر شہر میں داخل ہوئے اور بادشاہ کے مصاحبین و مقرَّبین سے رسم و راہ پیدا کر کے بادشاہ تک پہنچے اور اس پر اپنا اثر پیدا کر لیا۔ جب دیکھا کہ بادشاہ ان سے خوب مانوس ہو گیا ہے تو ایک روز بادشاہ سے ذِکْرکیا کہ دو آدمی جو قید کئے گئے ہیں کیا ان کی بات سنی گئی تھی ؟وہ کیا کہتے تھے ؟ بادشاہ نے کہا کہ نہیں جب انہوں نے نئے دین کا نام لیا فوراً ہی مجھے غصّہ آ گیا۔حضرت شمعون (رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے کہا کہ اگر بادشاہ کی رائے ہو تو انہیں بلایا جائے، دیکھیں ان کے پاس کیا ہے ؟چنانچہ وہ دونوں بلائے گئے ، حضرت شمعون (رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے ان سے دریافت کیا تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ انہوں نے کہا: اس اللہ نے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر جاندار کو روزی دی اورجس کا کوئی شریک نہیں ،حضرت شمعون (رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے کہا: اس کی مختصر صفت بیان کرو ۔ انہوں نے کہا :وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے ۔ حضرت شمعون (رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے کہا: تمہاری نشانی کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: ’’جو بادشاہ چاہے ۔‘‘تو بادشاہ نے ایک اندھے لڑکے کو بلایا، انہوں نے دُعا کی وہ فوراً بینا(یعنی دیکھنے والا) ہو گیا ۔ حضرت شمعون(رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے بادشاہ سے کہا کہ اب مناسب یہ ہے کہ تُو اپنے معبودوں سے کہہ کہ وہ بھی ایسا ہی کر کے دکھائیں