Brailvi Books

بدشگونی
26 - 127
بُرا شگون لیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں  سے۔حضرتِ سیِّدُناصالح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: تمہاری بَدشگونی  اللہ کے پاس ہے بلکہ تم لوگ فتنے میں  پڑے ہویعنی آزمائش میں  ڈالے گئے یا اپنے دین کے باعث عذاب میں  مبتلا ہو۔
(ماخوذ از سورۃ النمل ،پ ۱۹،آیت:۴۵ تا۴۷ مع تفسیر خزائن العرفان،ص۷۰۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۳) مبلغین کو منحوس کہنے والے بَدبخت لوگ
	 حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی َعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اپنے دو حواریوں  صادق و صدوق کو انطاکیہ بھیجا تاکہ وہاں  کے لوگوں  کو جو بُت پَرست تھے دینِ حق کی دعوت دیں  ۔جب یہ دونوں  شہر کے قریب پہنچے تو انہوں  نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں  چَرا رہا ہے۔ اس شخص کا نام حبیب نجّار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ، ان دونوں  نے کہا کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی َعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے بھیجے ہوئے ہیں  تمہیں  دینِ حق کی دعوت دینے آئے ہیں  کہ بُت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی اختیار کرو۔ حبیب نجّار نے نشانی دریافت کی انہوں  نے کہا کہ نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں  کو اچھا کرتے ہیں  ، اندھوں  کو بینا کرتے ہیں  ، بَرْص والے کا مرض دُورکر دیتے ہیں۔ حبیب نجّار کا ایک بیٹا دو سال سے بیمار تھا ، انہوں  نے اس پر ہاتھ پھیرا وہ تندُرُست ہو گیا ، حبیب ایمان لائے اور اس واقعہ کی خبر مشہور ہو گئی یہاں  تک کہ کثیرلوگوں  نے ان کے ہاتھوں  اپنے اَمراض سے شفا پائی۔ یہ خبر پہنچنے پر بادشاہ نے انہیں  بُلا کر کہا: کیا ہمارے معبودوں