ہے مگر وہ لوگ ایسے سَرکش تھے کہ ان سب سے ان کی آنکھیں نہ کُھلیں بلکہ ان کا کُفْروسَرکشی اور زیادہ ہوگئی کہ جب کبھی ہم ان کو آرام دیتے ہیں ،اَرزانی ،چیزوں کی فَراوانی وغیرہ تو وہ کہتے کہ یہ آرام وراحت ہماری اپنی چیزیں ہیں ،ہم اس کے مستحق ہیں نیز یہ آرام ہماری اپنی کوششوں سے ہیں ۔(تفسیر نعیمی،۹/۱۱۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲)قومِ ثمود نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے بَدشگونی لی
حضرتِ سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو قومِ ثمود کی طرف مبعوث کیا گیا کہ انہیں ایک رب عَزَّوَجَلَّکی عبادت کی طرف بلائیں ۔جب آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے انہیں اس کی دعوت پیش کی تو ایک گروہ آپ پر ایمان لے آیا جب کہ دوسرا گروہ اپنے کُفْر پر قائم رہا اور حضرتِ سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو چیلنج دینے لگا کہ اے صالح !جس عذاب کا تم وعدہ دیتے ہو اس کو لاؤ اگر رسولوں میں سے ہو !جواباً آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامان کو سمجھاتے :تم عافیت کی جگہ مصیبت وعذاب کیوں مانگتے ہو،عذاب نازِل ہونے سے پہلے کُفر سے توبہ کر کے ایمان لا کراللہ عَزَّوَجَلَّسے بخشش کیوں نہیں مانگتے شاید تم پر رحم ہو اور دنیا میں عذاب نہ کیا جائے مگر قوم نے تکذیب کی اس کے باعث بارش رُک گئی قحط ہو گیا ، لوگ بھوکے مرنے لگے۔ اس کو انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی تشریف آوری کی طرف نسبت کیا اور آپ کی آمد کو بَدشگونی سمجھا اوربولے :ہم نے