Brailvi Books

بدشگونی
24 - 127
بَد شگونی لینا غیر مسلموں  کا طریقہ ہے 
کسی شخص یا چیز کو منحوس قرار دینا مسلمانوں  کا شیوہ نہیں یہ تو غیر مسلموں  کا پُراناطریقہ ہے۔اس قسم کے 4 واقعات ملاحظہ ہوں  :
(۱)فرعونیوں  کا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے بَدشگونی لینا
پارہ 9سورۃُ الْاَعراف کی آیت131میں  ہے : فَاِذَا جَآءَتْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوۡا لَنَا ہٰذِہٖ ۚ وَ اِنۡ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوۡا بِمُوۡسٰی وَمَنۡ مَّعَہٗ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُہُمْ عِنۡدَ اللہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَایَعْلَمُوۡنَ ﴿۱۳۱﴾ (پ۹،الاعراف :۱۳۱)
ترجمۂ کنزالایمان : تو جب انہیں  بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لئے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں  سے بَدشگونی لیتے ،سُن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں  ہے لیکن ان میں  اکثر کو خبر نہیں۔
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس آیت کے تحت لکھتے ہیں  :جب فرعونیوں  پر کوئی مصیبت(قحط سالی وغیرہ) آتی تھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی مؤمنین سے بَدشگونی لیتے تھے ،کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ہمارے ملک میں  ظاہِر ہوئے ہیں  تب سے ہم پر مصیبتیں  بلائیں  آنے لگیں۔ (مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں  :)انسان مصیبتوں، آفتوں  میں  پھنس کر توبہ کرلیتا