آکے تم با ادَب ،دیکھ لو فضلِ ربِّ مَدَنی مُنّے ملیں ،قافِلے میں چلو
کھوٹی قسمت کھری،گود ہو گی ہری مُنّا مُنّی ملیں ،قافِلے میں چلو
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے کس طرح مَن کی مُرادیں بَر آتی ہیں ! اُمّیدوں کی سوکھی کھیتیاں ہری ہو جاتی ہیں ،دلوں کی پَژ مُردہ (یعنی مُرجھائی ہوئی)کلیاں کِھل اٹھتی ہیں اور خانماں برباد وں کی خوشیاں لوٹ آتی ہیں۔ مگر یہ ذِہن میں رہے کہ ضَروری نہیں ہر ایک کی دلی مُراد لازِمی ہی پوری ہو ، بارہا ایسا ہوتا ہے کہ بندہ جو طَلَب کرتا ہے وہ اُس کے حق میں بہتر نہیں ہوتا اور اُس کا سُوال پورا نہیں کیا جاتا۔ اُس کی منہ مانگی مُراد نہ ملنا ہی اُس کیلئے اِنعام ہوتا ہے ۔ مَثَلاً یہی کہ وہ اولادِ نرینہ مانگتا ہے مگر اُس کو مَدَنی مُنّیوں سے نوازا جاتا ہے اور یہی اُس کے حق میں بہتر بھی ہوتا ہے۔چُنانچِہ پارہ دوسرا سورۃُ البقرہکی آیت نمبر 216 میں ربُّ العِباد عَزَّوَجَلَّ کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے: عَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْۚ وَعَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْؕ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ﴿۲۱۶﴾٪ (پ۲، البقرۃ:۲۱۶)
ترجَمۂ کنزالایمان: قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت،باب فیضان رمضان،۱/۱۰۶۱بتغیر قلیل)